بتسیلم کا بیان (انگریزی سے ترجمہ)
فوٹو جرنلسٹ۔ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں غزہ کی سرحدی باڑ کے قریب عظیم واپسی مارچ کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پیٹ اور سینے میں گولیاں لگیں؛ مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران کچھ مظاہرین نے ٹائر جلائے اور باڑ کے دوسری جانب تعینات اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینکے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں گولی کی آواز سنائی دیتی ہے اور پھر پریس جیکٹ پہنے ابو حسین زمین پر گرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بعد میں وہ اسرائیل کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے۔
اصل متن
Photojournalist. Shot in the stomach and chest by Israeli security forces during the Return Protests near the Gaza perimeter fence, east of Jabalya R.C.; thousands took part in the protests. During the protest, some of the demonstrators torched tires and threw stones at Israeli security forces stationed on the other side of the fence. On video footage posted on social media, a shot is heard and then Abu Hussein is seen falling to the ground, wearing a press vest. He later died of his injuries in a hospital in Israel.