بتسیلم کا بیان (انگریزی سے ترجمہ)
فوجیوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ فوج کا دعویٰ تھا کہ ابو جزر کو ایک اور لڑکے کے ساتھ اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کے بعد گولی ماری گئی۔ گولی لگنے کے وقت وہ نہتے تھے اور کسی کے لیے خطرہ نہیں تھے۔ اسرائیل نے ان کی لاش 22 اپریل 2021 تک اپنے قبضے میں رکھی، جب اسے ان کے خاندان کو واپس کیا گیا۔
اصل متن
Fatally shot by soldiers. The military claimed that Abu Jazar was shot after trying to enter Israel with another boy. He was unarmed and posed no risk to anyone at the time he was shot. Israel held his body until 22 April 2021, when it was returned to his family.